ابنا: سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد عدم استحکام کی صورت میں پاکستان کی ایجنسیوں کو جوابی اقدامات کرناہوں گے، کیوں کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں نسلی تنازعات پھٹ پڑنے کا امکان ہے، سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک کارنیگی انڈاوٴمنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر مستحکم افغانستان کے اثرات سے پاکستان متاثر ہوگا اس لیے کوئی بھی حکمراں ہو وہ پاکستان کے مفادات کے لیے کام کریگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کی بھارت سے قربت بہت بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے پاکستانی ایجنسیوں کو پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت اور روس کے اثرورسوخ کی وجہ سے پاکستان کے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ہی افغانستان اسلام آباد کا مخالف رہا ہے، اس صورتحال کو جاری رہنے نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستانی ایجنسیاں اگر اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتی ہیں تو برا نہیں ماننا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110